Tuesday, September 18, 2018

آپ کو دیکھا تو ہم کو پیار کرنے کو ملا
انتہاۓ حسن کا دیدار کرنے کو ملا ۔
आप को देखा तो हम को प्यार करने को मिला
इन्तहा-ए-हुस्न का दीदार करने को मिला । 

تذکرہ ترکِ مراسم کا ہوا تو یوں لگا
شاعرِ خفتہ وہ پھر بیدار کرنے کو ملا ۔
तज़किरा तर्क-ए-मरासिम का हुआ तो यूँ लगा
शायर-ए-खुफ्ता वह फिर बेदार करने को मिला ।

اور کیا بزمِ طرب سے چاہیے تھا جب وہاں ،
مسکراتے چہروں کا دیدار کرنے کو ملا ۔
और क्या बज़्म-ए-तरब से चाहिए था जब वहाँ
मुस्कराते चहरों का दीदार करने को मिला ।

تیری زلفوں کی سیاہی ہونٹوں کی سرخی صنم ،
ارمغاں آرائشِ اشعار کرنے کو ملا ۔
तेरी ज़ुल्फ़ों की स्याही होंटो की सुर्ख़ी सनम
अर्मुग़ाँ आराइश-ए-अशआर करने को मिला ।

میرے بس میں ہوتا تو کیا خوب کرتا میں کلام ،
حرف کوئی بھی نہیں گفتار کرنے کو ملا ۔
मेरे बस में होता तो क्या ख़ूब करता मैं कलाम
हर्फ़ कोई भी नहीं गुफ़्तार करने को मिला ।

کوۓ دل میں جل گئے تیرے تبسّم سے چراغ ،
دشتِ دل بھی اب ہمیں گلزار کرنے کو ملا ۔
कू-ए-दिल में जल गये तेरे तबस्सुम से चिराग़
दश्त-ए-दिल भी अब हमें गुल्ज़ार करने को मिला


ہاں! نکال اٹھ کے خود اِس بندۂ نا قابل کو میرے جانے پہ ہے اصرار تری محفل کو نہ مجھے فکرِ معیشت ہے نہ اندیشۂ عشق جانے کیا خوف ہے کھاتا ہے جو م...