Thursday, June 7, 2018

روزِ اول

ہے طلب روزِ  اول سے جس کی تجھے 
گر خدا وہ ہے تو پھر خدا کیا رہا ؟ 
حوروں کی آرزو میری بھی ، تیری بھی 
فرق ہم تم میں زاہد بتا کیا رہا ؟ 

خندہ زن ہے یہ عاشق تری بات پر 
دیکھ کر وہ حسیں رخ میں کافر ہوا 
حسن کو چھوڑ کر اس زمیں پر بتا
پھر خدائے جا کا نقشِ پا کیا رہا ؟

خواہشِ  خام آزارِ  دل مت کہو  
یہ فقط اشکِ آبِ  رواں لاتی ہیں 
خواہشیں پوری ہو کر ہوئیں خوں فشاں 
یاں یہ ہو کر بھی یا رب مرا کیا رہا ؟

گر عبادت بتوں کی ہی کرنی تجھے 
پھر عبث ہے تراشِ بتِ  سنگ و گل 
تو جہاں سارے کو بت کدہ اک سمجھ 
پھر دل و جاں کا منظر دکھا کیا رہا . 

یہ ادا ، یہ تبسّم سلامت رہے 
رنگِ  رخسار و لب بھی سلامت رہے 
دستِ  گلچیں سے گلشن سلامت رہے 
ورنہ سمرنٙ ادا کا بچا کیا رہا ؟

No comments:

Post a Comment

ایک غزل ۲۰۲۵ کے نام

ہر ایک گوشے میں بکھری شمیمِ یار اس سال چمن میں آئی ہے سمرن عجب بہار اس سال ہوا ہے ختم کڑا دورِ انتظار اس سال ہمارے شہر میں آئے وہ شہسوار اس ...