Thursday, October 17, 2024

میرا اور تنہائی کا رشتہ

مرا اور میری تنہائی کا رشتہ خوب پیارا ہے
دیا اُس نے شبِ فرقت مری جاں کو سہارا ہے
کیا اُس نے مری تاریک راتوں میں اُجالا ہے
مجھے گردابِ بحرِ ياس سے باہر نکالا ہے

ہوا ہے جادۂ الفت میں جب کوئی ستم تازہ 
ديا جب میرے دل کو گل رخوں نے زخمِ غم تازہ
دلِ مجروحِ تیرِ حسن کا شيون سنا اُس نے
مرے قلبِ حزیں سے حرفِ دلجوئی کہا اُس نے

کوئی ہمدم نہ کوئی دردمند امداد کو آیا
مجھے وقتِ مصیبت صرف تنہائی نے بہلایا 
مری غم خوار تنہائی ، مری ہم راز تنہائی 
مری دلدار تنہائی ، مری دم ساز تنہائی

فقط ایسا نہیں ہے قلب کی تسکین ہوتی ہے
کہ تنہائی سے ہی تو عظمتِ شاہین ہوتی ہے
اُسی کے عشق نے مجھ کو کیا ہے آشنا خود سے
حریمِ نازِ تنہائی کے اندر میں ملا خود سے

مگر اک خوئے تنہائی ہے جو مجھ کو ستاتی ہے
کہیں جانا ہو مجھ کو وہ بھی میرے ساتھ جاتی ہے
ہر اک لحظہ ، ہر اک جا پر وہ میرے پاس رہتی ہے
مجھے دنیائے خوباں سے جدا رہنے کو کہتی ہے
مرے نزدیک بیٹھی ہوتی ہے ہر انجمن میں وہ
مرے پہلو سے اُٹھتی ہی نہیں صحنِ چمن میں وہ
مجھے کہتی ہے یہ رشتہ وہ آخر تک نبھائے گی
مجھے کہتی ہے محشر تک وہ میرے ساتھ جائے گی
اگرچہ اُس کے الطاف و عنایت سے میں شاداں ہوں 
ولیکن اس قدر قربت سے میں کچھ کچھ پریشاں ہوں 

سنا تھا میں نے تنہائی کے جو عشاق ہوتے ہیں
الجھ کر دامِ یادِ رفتگاں میں روز روتے ہیں
سنا تھا اُن کی ہستی کا نہیں رہتا نشاں کوئی
اُنہیں ملتا نہیں ہے دو جہاں میں رازداں کوئی
مگر پھر بھی دل اپنا سادگی سے دے دیا اُس کو
بھری دنیا کو ٹھکرا کر رفیقِ جاں کیا اُس کو

کوئی دیوانہ تنہائی کو جب دل اپنا دیتا ہے 
وہ تنہائی سے عہدِ ترکِ عالم باندھ لیتا ہے
پھر اُس کے ساتھ اپنوں کا کوئی سایہ نہیں رہتا
اگر یہ رشتہ جُڑ جائے ، کوئی رشتہ نہیں رہتا

No comments:

Post a Comment

ایک غزل ۲۰۲۵ کے نام

ہر ایک گوشے میں بکھری شمیمِ یار اس سال چمن میں آئی ہے سمرن عجب بہار اس سال ہوا ہے ختم کڑا دورِ انتظار اس سال ہمارے شہر میں آئے وہ شہسوار اس ...