Wednesday, June 12, 2024

اُن کا نام سنتے ہی بے قرار ہوتا ہے 
اُن کے ہر اشارے پر دل نثار ہوتا ہے

جب تمہارے چہرے سے اُس کی آنکھ اٹھتی ہے
رخ تمہارے عاشق کا سوئے دار ہوتا ہے 

وہ جسے جہاں سارا غم گسار کہتا ہے
کون ایسے بے کس کا غم گسار ہوتا ہے 

اُن کو میرے وعدوں پر کچھ یقیں نہیں ہوتا 
بس عدو کی باتوں پر اعتبار ہوتا ہے

اپنے ہاتھوں سے جب وہ مہ لقا پلاتا ہے 
زہر زندگی کا تب خوش گوار ہوتا ہے 

وہ مرا بتِ کم سن مانتا نہیں لیکن
میری داستاں سن کر شرمسار ہوتا ہے 

اولِ شبِ ہجراں جب چراغ جلتے ہیں 
اُس گھڑی تصور میں روئے یار ہوتا ہے 

بے کلی کے عالم میں کٹ گئی شبِ وعدہ 
منہ اندھیرے اب کس کا انتظار ہوتا ہے

اُن کے سامنے سمرن چپ رہو تو بہتر ہے
بول کر ذلیل انساں اور خوار ہوتا ہے

No comments:

Post a Comment

ہاں! نکال اٹھ کے خود اِس بندۂ نا قابل کو میرے جانے پہ ہے اصرار تری محفل کو نہ مجھے فکرِ معیشت ہے نہ اندیشۂ عشق جانے کیا خوف ہے کھاتا ہے جو م...